قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ہر پریس کانفرنس میں یہی بات ہوتی ہے کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اب یہ باتیں ختم ہونی چاہئیں، میدان میں ٹیم میں ہی چلاتا ہوں اور فائنل الیون کو بھی میں ہی حتمی شکل دیتا ہوں۔

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کل کھیلا جائے گا اور سیریز سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابراعظم نے زمبابوے کے خلاف فتح کا عزم ظاہر کیا۔

پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل میڈیا سے آن لائن گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ہم زمبابوے کے خلاف گزشتہ میچ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کو برقرار رکھیں گے اور کوشش یہ ہے کہ کامبی نیشن کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ زمبابوے کی کنڈیشنز مشکل ہیں لیکن ہم یہاں ایڈجسٹ ہو گئے ہیں اور خود کو ڈھال لیا ہے، اس لیے کوشش ہے کہ ٹیسٹ سیریز بھی جیتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی20 سے ٹیسٹ فارمیٹ میں آنا مشکل نہیں ہوتا البتہ ایڈجسٹمنٹ اور ٹیسٹ کرکٹ کی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے، زمبابوے کے خلاف زمبابوے میں کھیلنا مشکل ہے، یہاں کی کنڈیشنز مختلف ہیں لیکن ہم اپنی تیاریوں کی بدولت اچھے نتائج کے لیے پرعزم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بابر نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی وکٹ باؤنسی تھی لیکن یہاں کی وکٹ پر گیند نیچے رہتا ہے تو بطور بلے باز تھوڑی مشکل ہوئی، یہ وکٹ ایسی نہیں تھی کہ اس پر 180-200 اسکور ہوتا، ٹیسٹ میچ کی وکٹ بہتر لگ رہی ہے اور تھوڑی گھاس بھی ہے جس سے امید ہے کہ وکٹ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں کو مدد کرے گی۔

قومی ٹیم کے کپتان نے اپنی ٹیسٹ ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اظہر علی اور فواد عالم جیسے تجربہ کار کھلاڑی ہیں، ہماری باؤلنگ بھی شان دار ہے جس میں حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی ہیں اور مجھے امید ہے کہ کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

شعیب ملک کی ٹوئٹ کے حوالے سے سوال پر بابر اعظم نے کہا کہ اب یہ باتیں ختم ہونی چاہئیں، ہر پریس کانفرنس میں یہی بات ہوتی ہے کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، آپ کو دِکھ رہا ہو گا کہ میدان میں ٹیم کو میں ہی چلاتا ہوں اور فائنل الیون کو بھی میں ہی حتمی شکل دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کی رائے ضرور شامل ہوتی ہے، میں مینجمنٹ سے پوچھتا ہوں، بطور کپتان مجھے معلوم ہے کہ میرا رول کیا ہے۔

یاد رہے کہ شعیب ملک نے زمبابوے کے خلاف ٹی20 میچ میں قومی ٹیم کی شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں قومی ٹیم مینجمنٹ پر پسند ناپسند کا الزام عائد کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ایک ایسے دور میں جب آپ کی کرکٹ کی بقا خطرے میں ہو لیکن اس کے باوجود ٹیم مینجمنٹ پسند اور ناپسند پر انحصار کر رہی ہو تو پھر بحیثیت قوم آپ اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔

شعیب ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پسند اور ناپسند کے مسئلوں کے ساتھ ساتھ آپ کپتان کو بھی فیصلے نہیں کرنے دیتے تو پھر یہ تو ہونا ہی تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک اور سوال پر بابراعظم نے کہا کہ وائٹ بال کوچ کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) بہتر بتا سکتا ہے، مجھے مصباح الحق سے کوئی مسئلہ نہیں اور مینجمنٹ کی طرف سے تمام کھلاڑیوں کو مکمل سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لے سکتے، زمبابوے کی ٹیم اپنے ملک میں کھیل رہی ہے تو انہیں کنڈیشنز کا زیادہ علم ہے، یہاں کنڈیشنز مشکل ہیں لیکن ہم ان کی ٹیم کو ہرگز آسان تصور نہیں کررہے اور 100 فیصد کارکردگی دکھائیں گے۔

کپتان نے اوپننگ جوڑی کو برقرار رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران بٹ نے ابھی دو تین ٹیسٹ میچ ہی کھیلے ہیں جبکہ عابد علی بھی منجھے ہوئے بلے باز ہیں اور ماضی میں اچھی کارکردگی دکھا چکے ہیں، ہم ان کھلاڑیوں کو جتنا سپورٹ کریں گے اتنا ہی ٹیم کے لیے اچھا ہے

انہوں نے کہا کہ اوپنرز پر کوئی دباؤ نہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ انہیں دباؤ سے آزاد کر کے آزادانہ اپنی کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دیں۔

Previous articleہرارے ٹیسٹ: پہلے دن زمبابوے176رنز پر ڈھیر، پاکستانی اوپنرز کی سنچری شراکت
Next articleرضوان عمدہ کارکردگی کی بدولت پہلی مرتبہ ٹی20 کی ٹاپ10 رینکنگ میں شامل