امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انخلا کے بعد دہشت گردوں سے پاکستان کوخطرہ ہے۔

پینٹاگون میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی جنرل میکنزی نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ اورداعش دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں جو خطے کے ملکوں خاص طور پر پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی جنرل کیتھ ایف میکنزی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں استحکام خطے کے تمام ملکوں کے مفاد میں ہے۔ تاہم اگر دباؤ برقرار نہ رکھا گیا تو القاعدہ اور دولت اسلامیہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں۔

امریکی جنرل کیتھ ایف میکنزی کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان تنظیموں کو افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ امید کرتے ہیں کہ اگر طالبان مستقبل میں افغان حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں تو وہ اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہم یہ نہیں جانتے کے افغان حکومت کی شکل کیا ہوگی کیونکہ طالبان نے افغانستان کے امن مذاکرات میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا اور یہ مذاکرات عارضی طور پر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

 

Previous articleخیبرپختونخوا میں ٹیکس وصولی کیلئے نئی حکمت عملی، ای اسٹیمپ لانے کا فیصلہ
Next articleبرطانیہ نے کرپشن میں ملوث 22 افراد پر پابندی عائد کر دی، بھارتی نژاد تاجر بھی شامل