سینیٹ انتخابات کیلئے کل میدان لگے گا، انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیاں غیر قانونی ہوں گی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اپنی 157 نشستیں ہیں، اتحادیوں میں ایم کیو ایم کی 7، مسلم لیگ ق کی اور بی اے پی کی 5، 5 جی ڈی اے کی 3، شیخ رشید کی آل پاکستان مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی 1، 1 نشست جبکہ 1 آزاد امیدوا اسلم بھوتانی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن کی 83، پیپلزپارٹی کی 55، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی 15، اے این پی اور جماعت اسلامی کی 1،1 نشست جبکہ 3 آزاد امیدواروں کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین کی تعداد 161 بن جاتی ہے۔ یوں وفاق کی جنرل نشست پر اپوزیشن کو جیتنے کے لئے حکومتی اتحاد میں سے 10 ووٹ توڑنے ہوں گے۔

اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 341 اراکین پر مشتمل ہے، اگر تمام ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں تو جیتنے والے امیدوار کو 171 ووٹ درکارہوں گے۔ اگر تمام ووٹ کاسٹ نہیں ہو پاتے تو کاسٹ ووٹوں میں سے 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار فاتح قرار پائے گا۔

Previous articleمعروف ڈرامہ نگار حسینہ معین دس سال بعدچھاتی کے سرطان سے آگاہی پر پاکستان کی پہلی ویب سیریز تحریر کریں گی۔
Next articleبیلٹ پیپر قابل شناخت ہوگا یا نہیں ؟ الیکشن کمیشن حکام آج پھر سر جوڑ کر بیٹھیں گے