اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خبردار کیا ہے کہ ملک صرف 20 دنوں کے لیے گندم کا ذخیرہ دستیاب ہے جس کی وجہ سے ملک آٹے کے ایک اور بحران کی جانب بڑھ رہا ہے یہ انتباہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دیا جس میں گندم کی قیمت خرید 1800 روپے فی من مقرر کرنے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومت جھوٹے دعوے کررہی ہے کہ اس نے سبسڈی قیمت میں 400 فیصد اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت صرف 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور حکومت نے گندم کی قیمت خرید 1400 روپے سے بڑھا کر 1800 روپے کی ہے۔

دوسری جانب ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سبسڈی کی قیمت 1800 روپے رکھ سکتی ہے لیکن پیپلز پارٹی سندھ میں کسانوں پر ظلم نہیں ہونے دے گی اور صوبے میں گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے فی من رہے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ نے گندم کی امدادی قیمت کو بڑھا کر 2 ہزار روپے کیا ہے جو 42 فیصد اضافہ ہے۔

بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ‘ملکی تاریخ میں پہلی بار گندم کی امدادی قیمت صوبوں میں یکساں نہیں اور پنجاب، خیبرپختونخواہ، بلوچستان کے کسانوں پر اس ظلم کے ذمہ دار عمران خان ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھاد، بیج اور ادویات سے لے کر زرعی مشینری، بجلی اور فیول کی قیمتوں میں 150 فیصد اضافے کے بعد گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے دینا کسانوں پر ظلم ہے۔

ساتھ ہی چیئرمین پی پی پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی حکومت تو گندم کی امدادی قیمت 1600 روپے چاہتی تھی لیکن پی پی پی نے کسانوں کا مقدمہ لڑا تو وفاق نے قیمت میں کچھ اضافہ کیا، انہوں نے عوام کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے تین سالوں میں گندم کے دو بحران پیدا کیے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آج ملک میں صرف دو سے ڈھائی ہفتوں کی گندم کا ذخیرہ رہ گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گندم کے ختم ہوتے ذخیروں کے بحران سے نہیں نمٹا گیا تو ملک میں ایک مرتبہ پھر آٹے کی قلت ہوسکتی ہے جس طرح گزشتہ برس مئی میں پنجاب میں گندم کی فصل اتری اور جولائی میں ایک کروڑ ٹن سے زائد گندم غائب ہوگئی تھی۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا عممران خان اپنے سرمایہ دار دوستوں سے پوچھیں کہ گندم افغانستان اسمگل کرکے مصنوعی بحران کیسے پیدا ہوا، یہ وہی گندم پیدا کرنے والا پاکستان ہے جو آج گندم بیرون ملک سے درآمد کررہا ہے، معیشت کی تباہی کی ایک وجہ یہ ہے کہ زرعی ملک پاکستان کے حکمران کو بدقسمتی سے زراعت کی الف بے سے بھی واقفیت نہیں۔

پی آئی اے پلان

دوسری جانب ایک علیحدہ بیان میں سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو 2 کمپنیوں میں تقسیم کرنے کے حکومت کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘تباہی سرکار نے درست لائسنس والے متعدد پاکستانی پائلٹس کو داؤ پر لگا کر، یورپی دارالحکومتوں میں ایئرلائن گراؤنڈ کراو کر، بیرونِ ملک پی آئی اے کے اثاثے بیچ کر اسے تباہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے 2 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی اسکیم لینے پر مجبور کیا گیا اور اب 14 ہزار ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ ہے۔

Previous articleنومسلم جنوبی افریقی کرکٹر کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
Next articleصارفین کیلئے بجلی کے نرخوں میں 63 سے 68 پیسے فی یونٹ کمی کا امکان