چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری حب الوطنی ہے یا حب الشخصی ؟ جو شخص ملک کے خلاف بات کرے اس کو ریلیف نہیں دیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ میں لیگی رہنما جاوید لطیف کی اخراج مقدمہ کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ لیگی رہنما جاوید لطیف پر برہم ہوئے اور ریمارکس دیئے کہ اسمبلیوں میں حلف لینے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، جاوید لطیف پاکستان چھوڑ دیں، کسی اور ملک کی شہریت لے لیں، کالے کوٹ والے نے پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا تھا، پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگانیوالوں کو لوگ چیونٹیوں کی طرح مسل دیں گے۔

چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ کسی کی جرات ہے جو پاکستان کے خلاف بات کرے، یہاں شخصیات نہیں، ملک کا آئین اہم ہے، شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، ادارے قائم رہتے ہیں۔ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔

Previous articleمقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کا ظلم رک نا سکا، مزید 4 نوجوان شہید
Next articleملک کے اکثر علاقوں میں آج موسم گرم اور خشک رہے گا: محکمہ موسمیات