پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی کے کم از کم 130 روز اجلاس منعقد کرنے کے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے حکومت نے مختصر نوٹس پر پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کا اجلاس آج طلب کرلیا۔ اسی عمارت میں واقع سینیٹ سیکریٹریٹ کے دو علیحدہ نوٹفکیشنز جن میں کہا گیا تھا کہ دفاتر جمعے سے اتوار تک 3 روز کے لیے کورونا وائرس کیسز میں اضافے کی وجہ سے اسے ڈس انفیکٹ کرنے کے لیے بند رہیں گے، کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 10 بجکر 30 منٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس طلب کیا۔

گزشتہ ماہ جب حکومت نے چند آرڈیننسز کی مدت میں توسیع حاصل کرنے اور انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے صرف ایک روزہ نوٹس پر قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا تو حزب اختلاف نے سخت احتجاج کیا تھا۔اجلاس اپوزیشن ارکان کی مکمل حمایت کے ساتھ طلب کیا گیا ہے۔

اپوزیشن کے ساتھ سمجھوتے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بعدازاں اجلاس کے لیے ایس او پیز  جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے میں صرف تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو منعقد ہوگا جو زیادہ سے زیادہ گھنٹے کا ہوگا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ‘ایک وقت میں ممبران کی کم از کم تعداد ایوان میں موجود رہے گی اور اجلاس کے دوران کسی اہم قانون سازی کی صورت میں پارلیمانی پارٹیوں کو تین دن پہلے آگاہ کیا جائے گا’۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال اگست میں تیسرے پارلیمانی سال کے آغاز سے اب تک اسمبلی 61 دن اجلاس میں رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ حکومت کو 12 اگست تک اسمبلی کو مزید 69 روز اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ حکومت آئینی تقاضا پورا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی کیونکہ بجٹ اجلاس بھی عنقریب منعقد ہونا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے آج کے اجلاس کے لیے 11 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے جس میں ‘تجارت / کاروباری سرگرمیوں کے لیے پاک افغانستان سرحد پر نواں پاس اور گورسل سرحدی مقامات کی بندش’ اور ‘ لاہور میں نوجوانوں کے درمیان منشیات کی لت میں اضافے’ کے معاملات پر دو توجہ دلاؤ نوٹس بھی شامل ہیں۔

ایجنڈے کے مطابق وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان آئین کے تحت ضروری بجلی کی تقسیم، ترسیل اور پیداوار (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کی ریگولیشن اسمبلی کے سامنے رکھیں گے۔

اس کے علاوہ وزیر مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نورالحق قادری اور وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری بالترتیب مسلم خاندانی قوانین (ترمیمی) بل 2021 اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (ترمیمی) بل 2021 متعارف کریں گے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور ایم این اے احسن اقبال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ حکومت نے اپوزیشن کو نوٹیفائی کیا تھا کہ اس نے اجلاس صرف دنوں کی تکمیل کی آئینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے طلب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ حکومت اجلاس کے دوران کوئی متنازع ایجنڈا نہیں لائے گی کیونکہ اس نے وبائی امراض کی وجہ سے شرکت کرنے والے ممبران کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن نے جب پہلے ہی حکومت سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اب کیوں تعاون کر رہی ہے لیگی رہنما نے کہا کہ یہ حکومت کے ساتھ تعاون نہیں ہے کیونکہ پارلیمنٹ صرف حکومت سے تعلق نہیں رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کو اپنے دن لازمی مکمل کرنے چاہیے جیسا کہ آئین میں کہا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی انفارمیشن سیکریٹری اور ایم این اے شازیہ مری نے کہا کہ ان کی پارٹی کے قانون ساز کسی بھی آئینی شق کی خلاف ورزی نہیں دیکھنا چاہیں گے تاہم حکومت کو پارلیمنٹ کے کردار کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ؛حکومت ہمیشہ ہی اچانک پارلیمانی اجلاس بلاتی ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اجلاس نہیں بلائے جائیں تاہم مختصر وقت میں اجلاس طلب کرنے کی ایمرجنسی کیا تھی’۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ نے کووڈ 19 کی وجہ سے اپنے دفاتر بند رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم قومی اسمبلی اجلاس اسی عمارت میں اور اسی دن طلب کیا گیا ہے۔

شازیہ مری نے آرڈیننسز کے ذریعے قانون سازی کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کو آئینی تقاضے پورے کرنے کی فکر ہے تو اسے دیگر آئینی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی کے 30 مارچ کو اجلاس کے پہلے روز پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کے دوران حکومت کی جانب سے اجلاس طلب کرنے پر احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ہر طرح کے اندرونی اور بیرونی اجتماعات پر پابندی عائد کر رہی ہے اور دوسری طرف اس نے اسمبلی کو صرف ایک دن کے نوٹس پر طلب کرلیا ہے تاکہ محض دنوں کی آئینی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایجنڈے کے آئٹمز میں کوئی اہم بات نہیں ہے جو حکومت کی طرف سے وبائی امراض کے دوران اجلاس طلب کرنے کے عمل کو جواز فراہم کرسکتی ہو۔

Previous articleامریکا کا روس پر پابندیاں لگانے اور 10 سفیر ملک بدر کرنے کا اعلان
Next articleصنعتی صارفین کیلئے بجلی کے یکساں نرخوں کی جون 2022 تک توسیع