چینی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کے بعد نجی شعبہ نے حکومت سے زیرو ریٹڈ ٹیکس پر چینی در آمد کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے اور چینی کی قیمت دوبارہ 100روپے کلو کی سطح پر پہنچ گئی ہے جب کہ مارکیٹ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری چینی در آمد نہ کی گئی تو قیمت110روپے کلو اور رمضان المبارک میں 150 روپے کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اس ضمن میں ذرائع نے مزید بتایا کہ چینی کی در آمد بند ہونے کے بعد طاقتور شوگر مافیا نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے اور چینی کی قیمت بڑھ کر ایک بار پھر100روپے کلو کی سطح پر پہنچ گئی ہے جب کہ گزشتہ دنوں چینی کی قیمت گھٹ کر90روپے کی سطح تک آگئی تھی ،ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ چینی کی 40کلو بوری کی قیمت 4600 تا 4800 تک پہنچنے کے امکانات ہیں جس کے بعد چینی کی قیمت 110 روپے یا اس سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان سیرل ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور در آمد کنندہ مزمل چیپل نے کہا ہے کہ حکومت چینی کی قیمت میں کمی کیلئے فوری طور پر نجی شعبے کو ٹیکس فری چینی در آمد کرنے کی اجازت دے ،انہوں نے بتایا کہ نجی شعبہ کو در آمدی چینی 82روپے تک پڑتی ہے اور نجی شعبہ در آمدی چینی کو ذخیرہ کرنے کے بجائے 86تا88روپے کلو میں فروخت کو ترجیح دیتا ہے ،مزمل چیپل کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اپنی پالیسیوں میں مستقل مزاجی دکھائے اور گزشتہ سال کی طرح امسال بھی چینی کی ٹیکس فری در آمد کی اجازت دی جائے تا کہ رمضان المبارک میں چینی کی قیمت میں کمی کو ممکن بنایا جاسکے ۔

Previous articleکورونا کیسز: لاہور سمیت پنجاب کے 7 شہروں میں تعلیمی ادارے 2 ہفتے کیلئے بند
Next articleیوسف رضا گیلانی کی نااہلی کیلئے پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ