سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں پر سماعت مکمل ہوگئی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم کچھ دیر میں واپس آئیں گے، فیصلہ کب سنانا ہے کچھ دیر میں آکر بتائیں گے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی۔ وکیل وفاقی حکومت عامر رحمان نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کے تین سوالات ہی سارے کیس کی بنیاد ہیں، جسٹس فائز عیسٰی جواب دیں تو تنازع حل ہو سکتا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا مجھے ٹیکس کمشنر نے طلب کر رکھا ہے جس پر گفتگو ہو رہی ہے، کیا عدالت اِنکم ٹیکس آفیسر ہے؟  ایف بی آر رپورٹ پر گفتگو کر کے وقت ضائع کیا جا رہا ہے، کوڈ اُف کنڈیکٹ کے تحت کیسز کو جلد نمٹانا بھی ججز کی زمہ داری ہے۔

دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ایک بار پھر مداخلت کی جس پر جسٹس منظور ملک نے کہا کہ قاضی صاحب آپ کو اردو اور انگلش میں کئی بار سمجھا چکا ہوں، اب لگتا ہے آپ کو پنجابی میں سمجھانا پڑے گا، قاضی صاحب مہربانی کریں اور بیٹھ جائیں۔ وکیل وفاقی حکومت عامر رحمان نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی ججز کے احتساب سے منسلک ہے، ایک جج کے اہلخانہ کی اُف شور جائیدادوں کا کیس سامنے آیا، ریفرنس کالعدم ہو گیا لیکن تنازع اب بھی برقرار ہے، عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تنازع ختم ہو، سپریم جوڈیشل کونسل اس تنازع کے حل کے لیے متعلقہ فورم ہے۔

Previous articleہمارے کسان آج بھی موئن جو دڑو والے طریقوں اپر عمل کررہے ہیں، وزیراعظم
Next articleرمضان کے دوران ان عادات سے لازمی پرہیز کریں