سپریم کورٹ نے غیر معیاری اسٹنٹس کیس میں قومی و صوبائی ہیلتھ کمیشن کے سربراہان اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ عدالت نے این آئی سی بی کی سفارشات پرعمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ملک بھر میں غیر معیاری اسٹنٹس استعمال ہو رہے ہیں، امراض قلب کے معاملات کو نا تجربہ کار ماہرین پر چھوڑ دیا۔ چئیرمین لائف سیونگ ڈیوائسز پرائسنگ کمیٹی اظہر کیانی نے تسلیم کیا کہ مارکیٹ میں غیر معیاری اسٹنٹس کی بھرمار ہے، ناتجربہ کار مریضوں کو اسٹنٹس ڈال رہے ہیں۔

جسٹس اعجازالااحسن نے ریمارکس دیئے کہ غیر معیاری اسٹنٹس امپورٹ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، سپریم کورٹ نے غیر معیاری اسٹنٹس کیخلاف فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی احکامات اور نیشنل انٹروینشل کارڈیالوجی بورڈ کی سفارشات پر عمل نہیں ہو رہا۔ عدالت نے نیب کو پرائسنگ کمیٹی کا ممبر بنانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے این آئی سی بی کی سفارشات پر عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔

 

Previous articleغیر ملکی سرمایہ کاروں کی 24 کروڑ ڈالر کے ساتھ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ میں واپسی
Next articleپاکستان میں ٹک ٹاک پر عائد پابندی ختم کردی گئی