کراچی: پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) نے صرف مارچ میں سب سے زیادہ 10 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری اپنی طرف راغب کی جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ کی عکاسی کرتا ہے جو 10 فیصد تک منافع کے خواہشمند ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بدھ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مالی سال 2021 کے جولائی تا مارچ کے دوران پی آئی بی میں 24 کروڑ 6 لاکھ 90 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

بینکروں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال کووڈ – 19 وبائی امراض کے پاکستان میں آنے کے بعد پی آئی بی اور ٹریژری بلوں میں (3.5 ارب ڈالر تک) سرمایہ کاری کا عمل تین ماہ کے اندر تیزی سے ہوا۔

گزشتہ ماہ سے ہی کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے اور حکومت نے بہت سے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے تاہم تجارت اور صنعتوں کو کھلا رکھا ہوا ہے۔

پی آئی بیز کی آمد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار ملک میں پھیلتی ہوئی وبائی بیماری سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

پی آئی بیز نے مارچ میں 10 کروڑ 30 لاکھ 90 ہزار ڈالر حاصل کیے جو رواں مالی سال کے دوران سب سے زیادہ آمدنی تھی۔

اس سال فروری میں پی آئی بیز نے 3 کروڑ 76 لاکھ ڈالر اپنی طرف راغب کیا تھا۔

بینکروں کے لیے پی آئی بیز میں بڑھتی ہوئی آمد پاکستان کی معیشت میں بہتر اعتماد کی عکاس ہے، خاص طور پر کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس ہونا جس نے ان کے اعتماد کو مزید بڑھایا ہے۔

تاہم چند بینکروں کا کہنا تھا کہ توجہ اپنی جانب مبذول کرانے والی سب سے بڑی چیز پی آئی بیز پر 10 فیصد تک ریٹرن ہے کیونکہ دنیا میں کہیں بھی اتنا زیادہ منافع دستیاب نہیں جو خودمختار گارنٹی کی پشت پناہی میں ہو۔

پی آئی بی کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی تا مارچ مالی سال 2021 کے دوران سب سے زیادہ 11 کروڑ 52 لاکھ ڈالر کی امریکا سے سرمایہ کاری کی گئی۔

صرف مارچ میں امریکا کی طرف سے کی جانے والی سرمایہ کاری .6 2 کروڑ 36 لاکھ 50 ہزار ڈالر تھی۔

واضح رہے کہ پی آئی بیز پر منافع امریکا میں پیش کی جانے والی موجودہ سود کی شرح سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

Previous articleشوکت ترین نے بطور مشیر خزانہ کام کرنےکی حامی بھرلی، جلد تقرری کا امکان
Next articleغیر معیاری اسٹنٹس کیس: قومی و صوبائی ہیلتھ کمیشن کے سربراہان کو نوٹس جاری