سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔

کراچی کے دارالعلوم امجدیہ میں مفتی منیب کی زیر صدارت موجودہ صورتحال پر تنظیمات اہلسنت کا اجلاس ہوا۔

جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ‘جب بھی ناموسِ رسالتﷺ کی تاریخ لکھی جائے گی موجودہ دور کو سیاہ ترین قرار دیا جائے گا’۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم نے اپنی 15 اپریل کی پریس کانفرنس میں حکومت اور بااختیار اداروں کو مشورہ دیا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی قیادت کو جمع کیا جائے تاکہ آپس میں مشاورت کرسکیں اور مسئلے کے پُرامن حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے لیکن اہلِ اقتدار نے اس پر کان نہ دھرے اور ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم کی’۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘مین اسٹریم میڈیا پر پابندیاں ہیں، اس لیے درست معلومات دستیاب نہیں ہیں تاہم سوشل میڈیا سے جو معلومات لوگوں تک پہنچ رہی ہیں وہ انتہائی ہولناک اور اذیت ناک ہیں کہ ہم سب کے دل دکھی اور آنکھیں اشکبار ہیں’۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینسز کو آنے نہیں دیا جارہا، واقعے میں جاں بحق افراد کی میتوں کو محفوظ کرنے کے لیے انتظامات نہیں کرنے دیے جارہے، یہ ظلم کی انتہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک سے پاکستانی تارکین وطن کے فون آرہے ہیں اور وہ بے حد مضطرب ہیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں منگل تا جمعرات (20 سے 22 اپریل تک) پاکستانی قونصل خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے مزید کہا کہ ‘لوگ حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں اور اس دور کو عذابِ الہی سے تعبیر کررہے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا کہ شاید حکومت ہوش کے ناخن لے اور سنجیدگی سے مسئلے کو حل کرے لیکن ایسی کوئی علامت نظر نہ آئی’۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ‘پولیس تھانوں اور جیلوں میں قید کارکنان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، انہیں اذیت سے دوچار کیا جارہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تھانوں اور جیلوں میں قید کارکنان کو ذاتی مچلکوں پر فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں، اس کے بغیر مسئلے کے پُرامن حل کی توقع رکھنا خوش فہمی ہوگا’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘کیا پاکستان اس لیے بنا تھا کہ اس میں تحفظ ناموس رسالتﷺ کی بات کرنا جرم قرار پائے اور اس پر دہشت گرد کے فتوے لگائے جائیں’۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ہم شیخ رشید کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس لہجے میں دھمکیاں دینا چھوڑ دیں، ایک دن یہ اقتدار چلا جائے گا لیکن مسلمانوں کے دلوں سے آپ کی پیدا کی ہوئی نفرت کے داغ کبھی نہیں مٹ سکے گا’۔

مفتی منیب الرحمٰن نے مزید کہا کہ ‘2017 میں ان لوگوں (کالعدم ٹی ایل پی) کا یہی عمل آپ کی داد و تحسین کا مستحق تھا کیونکہ تب اقتدار پر کوئی اور فائز تھا اور جب آپ خود اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں تو وہی عمل آپ کی نظر میں دہشت گردی قرار پایا، اس سے بڑی منافقت اور کیا ہوگی’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم سندھ کی حد تک سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے پولیس تھانوں میں قید کارکنان پر ظلم بند کیا جائے، انہیں رہا کیا جائے اور جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں تاکہ مسئلے کے پُرامن حل کے لیے کوئی قابلِ عمل ماحول پیدا ہو’۔

مفتی منیب الرحمٰن نے مزید کہا کہ وفاقی وزرا نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اور وزیراعظم نے جس کی توثیق کی تھی، اس پر عمل کرنا اتنا دشوار نہیں تھا، اس میں یہ لکھا تھا کہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے، فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ کالعدم کے نعرے کو ترک کرکے 12 اپریل کی صورتحال بحال کی جائے تبھی بامعنی مذاکرات کی صورت پیدا ہوسکتی ہے، ورنہ دکھی دِلوں میں لاوا پکتا رہے گا اور بالآخر ایک دن پھٹ پڑے گا’۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’ہم تمام سیاسی جماعتوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور بلاامتیازِ مسلک تمام مذہبی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ناموسِ رسالتﷺ کے پاسبانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائیں’۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم بطور احتجاج کل بروز پیر، 19 اپریل 2021 کو ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں اور تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے امید ہے کہ وہ تعاون کریں گے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکاروں اور کاروباری حضرات سے مطالبہ ہے کہ کل اسٹاک ایکسچینج کو بند رکھا جائے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے مزید کہا کہ ‘ہم تمام اہلسنت سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ ہڑتال پُرامن ہے، پرامن رہے، یہ ملک ہمارا ہے، اس کی سلامتی ہمیں عزیز ہے، چادر اور چار دیواری کا احترام کیا جائے، نجی اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے’۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہڑتال کی کال میں مفتی منیب الرحمٰن سے ‘مکمل تعاون’ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

علاوہ ازیں جماعت اسلامی نے بھی مفتی منیب الرحمٰن کی جانب سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال کی حمایت کردی۔

 

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ٹوئٹ کی کہ ‘مفتی منیب الرحمٰن کے مؤقف اور مطالبات و اعلانات کی حمایت کرتے ہیں’۔

کراچی میں کالعدم ٹی ایل پی کا احتجاج پھر شروع

دوسری جانب کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے حامیوں اور کارکنوں نے بظاہر اتوار (18 اپریل) کو لاہور میں پیش آئے واقعے کے تناظر میں شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پھر مظاہرے شروع کردیے۔

تاہم پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنوں نے مچھر کالونی میں ریلوے لائن کو بلاک کرنے کی کوشش کی اور سڑکوں پر آگئے لیکن پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

کراچی پولیس چیف، ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی تصدیق کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے دیگر علاقوں سے اب تک کسی مظاہرے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ایڈیشنل آئی جی نے مزید کہا کہ ملک بھر میں نافذ سیکیورٹی اقدامات کے تحت کراچی کے لیے بھی ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

لاہور میں پولیس کارروائی

خیال رہے کہ 18 اپریل کی صبح کو پنجاب پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں نے لاہور کے یتیم خانہ چوک پر پُرتشدد مظاہرے کے دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو ‘بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا’ اور ساتھ ہی 4 دیگر عہدیداروں کو بھی یرغمال بنا لیا۔

لاہور کے سی سی پی او کے ترجمان رانا عارف نے بتایا تھا کہ کالعم تنظیم کے مشتعل کارکنوں نے پولیس پر پیٹرول بم سے حملے بھی کیے۔

یاد رہے کہ مذکورہ علاقے میں ٹی ایل پی کا احتجاج 12 اپریل سے جاری ہے۔

ٹی ایل پی کالعدم قرار

ٹی ایل پی نے فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں پر رواں سال فروری میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔

حکومت نے 16 نومبر کو ٹی ایل پی کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا تھا کہ اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمان کو شامل کیا جائے گا اور جب 16 فروری کی ڈیڈ لائن آئی تو حکومت نے سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مزید وقت مانگا۔

جس پر ٹی ایل پی نے مزید ڈھائی ماہ یعنی 20 اپریل تک اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

اس حوالے سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اتوار کے روز سعد رضوی، مرحوم خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں، نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹی ایل پی کارکنان کو کہا تھا کہ اگر حکومت ڈیڈ لائن تک مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہتی ہے تو احتجاج کے لیے تیار رہیں، جس کے باعث حکومت نے انہیں 12 اپریل کو گرفتار کرلیا تھا۔

ٹی ایل پی سربراہ کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے شروع ہوگئے تھے جنہوں نے بعض مقامات پر پر تشدد صورتحال اختیار کرلی تھی۔

جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جاں بحق جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے اور سڑکوں کی بندش کے باعث لاکھوں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بعدازاں حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کرنے اعلان کیا گیا تھا، اس دوران ملک کے مختلف احتجاجی مقامات کو کلیئر کروالیا گیا تھا تاہم لاہور کے یتیم خانہ چوک پر مظاہرین موجود تھے جہاں اتوار کی صبح سے حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے 15 اپریل کو تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا تھا بعدازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جماعت کی میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

Previous articleایران سے 200 سے زائد پاکستانی بےدخل
Next articleاسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے سے انکار کردیا