منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا یہ آپ کیلئے سبق ہے مصدقہ کاپی لینے کے بعد فیصلے کا یقین کریں۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق ضمانت منظور کی گئی تھی، تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اعلان کردہ فیصلہ تبدیل ہوا ہو۔ جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے کہا یہ آپ کیلئے سبق ہے مصدقہ کاپی لینے کے بعد فیصلے کا یقین کریں، تحریری فیصلے تک اپنے کلائنٹ کو عدالتی فیصلہ بارے آگاہ نہ کریں۔

جسٹس علی باقر نجفی نے وکیل سے استفسار کیا آپ شروع سے دلائل دیں ہمیں کیس کا نہیں پتہ، وکیل اعظم نزیر تارڑؑ نے کہا کہ ریفری جج کے طور پر آپ نے دونوں ججز کو فیصلے کو دیکھنا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا ہم نے فیصلے کو دیکھنا ہے مگر انہوں نے جو وجوہات لکھیں وہ بھی تو واضح ہوں، آپ بتأٸیں پھر کہاں سے شروع کیا جاٸے۔

جسٹس شہباز رضوی نے کہا ہمارے لیے کیس کے تمام حقاٸق کو جاننا ضروی ہے، ہم اس کے بعد ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ضمانت ہونی ہے یا نہیں۔

Previous articleپاکستان اور زمبابوے کے درمیان ٹی 20 سیریز کا پہلا میدان آج ہرارے میں لگے گا
Next articleلاہور میں 22 دن بعد میٹرو اور سپیڈو بس سروس بحال، نوٹیفکیشن جاری