وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان نے وزرات عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارلیمنٹ میں پہلی تقریر کے دوران اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات میں انتخابی اصلاحات کےلیےکمیشن بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا اور پہلے دن ہی پارلیمانی کمیٹی بنادی تھی۔

اسلام آباد میں بابر اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کا قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنےکے لیے کمیٹی بنائی گئی اور اسی کمیٹی کو سابقہ دور حکومت میں 4 برس لگے تھے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس کمیٹی کو تشکیل دینے کے لیے دھرنے دینے پڑے اور احتجاج کرنا پڑا لیکن ہم نے پہلے دن ہی کمیٹی بنادی۔

انہوں نے کراچی کے حلقہ این اے 249 کے انتخاب سے متعلق کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلز پارٹی پر انتخابی دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے حالیہ سینیٹ انتخاب اوپن بیلٹ کروانے کے لیےبھرپور زور دیا لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مخالفت کی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ یہ دونوں وہ پارٹیاں ہیں جہنوں نے 2006 میں میثاق جمہوریت میں اتقاق رائے کیا کہ سینیٹ کے انتخاب اوپن بیلٹ ہوں گے، مسلم لیگ (ن) 2015 میں قانون سازی لے کر آئی ووٹ اوپن ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن جب وزیر اعظم عمران خان نے اوپن بیلٹ کی بات کی تو انہوں نے مخالفت کردی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے انتخاب جتوایا گیا لیکن وہ سینیٹ چیئرمین کے لیے منتخب نہیں ہوسکے، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد دھاندلی کا الزام دور کرنے کے لیے اصلاحات کا عمل نہیں کیا تو سیاسی اور جمہوری ترقی رک جائے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم انتخابی اصلاحات تجویز کررہے ہیں جس میں ٹیکنالوجی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے اپوزیشن سے درخواست وزیر اعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزرا کررہےہیں، آپ کہتے ہیں کہ بات چیت کے لیے بھی تیار نہیں اور الیکشن کمیشن انتخابی اصلاحات کا بیڑا اٹھائے۔

Previous article40 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن کا عمل شروع ہوگیا، ڈاکٹر فیصل سلطان
Next articleبھارت میں کورونا سے پہلے غیر ملکی سفارتکار کی موت