اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ازبکستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی میں مکمل سہولت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عمران خان نے یہ یقین دہانی ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد العزیز کاملوف سے ملاقات کے دوران کی، جو پاکستان کے دو روزہ دورے پر تھے۔

 

وزیر اعظم آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ کراچی اور گوادر بندرگاہیں ’خشکی والے وسطی ایشیا کا دروازہ بن سکتی ہیں کیونکہ پاکستان نے وسطی ایشیائی جمہوریہ کو بین الاقوامی سمندروں کا سب سے مختصر راستہ فراہم کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کے لیے بندرگاہوں تک رسائی میں آسانی پیدا کرے گا۔ازبکستان تجارت کے لیے ایرانی بندرگاہ بندرعباس پر انحصار کرتا ہے۔

پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نے فروری میں تاشقند میں مزار شریف-کابل-پشاور 600 کلومیٹر ریلوے لائن کی تعمیر کے روڈ میپ پر دستخط کیے تھے۔

منصوبہ 5 سال کی مدت میں مکمل ہوگا جس کی تکمیل پر 4 ارب 80 کروڑ خرچ ہوں گے اور اسے ورلڈ بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کا تعاون حاصل ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے مجوزہ ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کا خیرمقدم کیا اور منصوبے کی جلد سے جلد تکمیل کے لیے زور دیا۔

اس معاہدے کے تحت روڈ پروجیکٹ پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین ایک متبادل راستہ فراہم کرے گا جبکہ افغانستان کو شاہراہ قراقرم کے راستے سے عبور کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے اور وسطی ایشیا سے جوڑتا ہے۔

ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد العزیز کاملوف نے اس دورے پر علاقائی روابط پر بھی توجہ دی۔

انہوں نے جولائی میں تاشقند میں وسطی و جنوبی ایشیا رابطہ کانفرنس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دعوت نامے بھی پیش کیے تھے۔

ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد العزیز کاملوف نے وزیر اعظم عمران خان کو ازبکستان کے دورے کی دعوت دی اور کہا کہ ان کی حکومت بہتر تجارت اور علاقائی رابطے کی خواہاں ہے۔

وفد کی سطح پر بات چیت

وفد کی سطح پر بات چیت کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے ازبک ہم منصب ڈاکٹر عبد العزیز نے اقتصادی تعاون میں اضافے، بین الاقوامی شعبے میں باہمی تعاون، علاقائی رابطے اور سیاحت کے فروغ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

علاوہ ازیں دفتر خارجہ نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے دونوں ممالک کے مابین رابطے کو آگے بڑھانے پر اطمینان کا اظہار کیا اور ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی جلد تکمیل پر اتفاق کیا۔

 

محمود شاہ قریشی نے تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے مابین براہ راست ہوائی رابطے کے قیام پر زور دیا۔

انہوں نے تاجروں اور سیاحوں کے لیے ویزوں کی فوری سہولت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جی ایچ کیو کا دورہ

بعد ازاں ڈاکٹر عبد العزیز نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ’باہمی دلچسپی کے امور، مجموعی علاقائی صورتحال سمیت افغان امن عمل اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ دونوں نے خطے میں امن اور سلامتی کے لیے کوششوں سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

Previous articleکے الیکٹرک صارفین کو 2 ارب 35 کروڑ روپے کا فائدہ حاصل ہوگا
Next articleچیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب، وزیراعظم نے پی ٹی آئی اور اتحادی سینیٹرز کو بلوا لیا