اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی اسکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کے مالی دستاویزات کے معائنے کے معاملے میں حکمران جماعت کے اعتراض پر آڈیٹرز کو ڈیٹا کے پرنٹ آؤٹ سے روک دیا۔ اسکروٹنی کمیٹی کے فیصلے کو پی ٹی آئی کے مالی دستاویزات کے معائنے سے متعلق پورے عمل کو بے معنی کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

آڈیٹرز نے تمام ڈیٹا دستی طور پر جمع کیا اور اسے اپنے کمپیوٹرز میں اپ لوڈ کیا تھا۔

غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی نمائندگی کرنے والے دو مالیاتی تجزیہ کار ارسلان وردگ اور محمد صہیب کو جلدوں پر مشتمل مالی دستاویزات سے دستی طور پر ڈیٹا جمع کرنا پڑے گا اور اس کے بعد تجزیہ کے لیے کمپیوٹر میں اپ لوڈ کرنا ہوگا۔

اکبر ایس بابر نے اسکروٹنی کمیٹی اور ای سی پی کے تجرباتی عمل کے دوران لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت نہ دینے کے فیصلوں پر احتجاج کیا اور اسے غیر منطقی قرار دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق درخواست گزار نے افسوس کا اظہار کیا کہ پہلے لیپ ٹاپ کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا اور اب دستی طور پر جمع کردہ ڈیٹا کے پرنٹ آؤٹ کی اجازت نہیں دی جارہی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں شبہ نہیں کہ یہ عمل پی ٹی آئی کی خواہشات پر چل رہا ہے۔

عہدہ چھوڑنے سے پہلے درخواست گزار نے ذاتی طور پر چیف الیکشن کمشنر سے جانچ پڑتال کے عمل میں رکاوٹوں کے بارے میں شکایت کی انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ اس کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کے کھاتوں کی جانچ تیسرے دن بھی جاری رہی اور یہ عمل شیڈول سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔

ای سی پی اسکروٹنی کمیٹی کا اگلا اجلاس 7 مئی کو ہوگا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بیرون ملک 6 بینک اکاؤنٹوں میں سے ابھی تک ایک کی بھی بینک اسٹیٹمنٹ فراہم نہیں کی گئی۔

درخواست گزار نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دستی طور پر جمع کیے گئے ڈیٹا کے کمپیوٹر پرنٹ آؤٹ سے انکار کرنا ‘عجیب اور ناقابل قبول’ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی اور غیرملکی سطح پر چندہ جمع کرنے کے لیے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹ استعمال کیےگئے جن کی تحقیقات سے انکار دراصل ‘حقائق کی تلاش کے بجائے حقائق کو چھپانے’ کی پالیسی کا بنیادی ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا انتخابی اصلاحات کا مطالبہ محض ایک آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیونکہ چیئرمین عمران خان کی نگرانی میں پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات 13-2012 میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی۔

Previous articleشاہ سلمان کا ترک صدر رجب طیب اردوان کو ٹیلیفون، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
Next articleرواں مالی سال کے 10 ماہ میں تجارتی خسارہ 21.6 فیصد تک بڑھ گیا