کسانوں نے پھر بھارت بند کرنے کا اعلان کر دیا، متحدہ کسان مورچہ نے کہا ہے کہ 26 مارچ کو ٹریڈ اور ٹرانسپورٹ یونین کے ساتھ مل کر ہڑتال کی جائے۔ ریاستی انتخابات میں بے جے پی کی مخالفت تیز ہو گئی۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باعث مودی سرکار کو بجٹ سیشن ایک دن کےلیے ملتوی کرنا پڑ گیا۔

بھارت بھر میں کاشتکاروں کا احتجاج مسلسل جاری تاہم مودی سرکار کی ہٹ دھرمی تاحال برقرار ہے۔ کسان رہنماوں نے ایک بار پھر بھارت بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ متنازع زرعی قوانین واپس نہ لینے پر کسانوں نے پارلیمنٹ کے گھیراؤ کی تیاریاں بھی کر لیں۔ لوک سبھا میں اپوزیشن نے کسانوں کے حق میں احتجاج کیا، مودی سرکار کو بجٹ سیشن ایک دن کےلیے ملتوی کرنا پڑ گیا۔

ہریانہ کے 60 دیہات نے بی جے پی رہنماؤں کےداخلے پر پابندی لگا دی، خواتین نے صوبے کے نائب وزیر اعلی کے خلاف ریلی نکالی۔ مظاہرین نے ان کے گھر تک مارچ کیا۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی وزیر اعلی بی جے پی کی حمایت واپس لیں۔

دلی کے ارد گرد 26 نومبر سے جاری دھرنوں میں اب تک کئی کسان جان دے چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہیں۔ کاشتکاروں کا احتجاج عالمی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

Previous articleایم کیو ایم لندن کی کہکشاں حیدر کا کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نیٹ ورک چلانے کا انکشاف
Next articleپی ٹی آئی نے اسلم ابڑو اور شہریارشر کی پارٹی رکنیت ختم کر دی