اسلام آباد: ملک کی ٹیکس مشینری نے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے ذریعے ڈھائی سال کے عرصے میں 75 ہزار 615 افراد کو ادا کی گئی 60 ارب 30 کروڑ 80 لاکھ روپے کی غیر ٹیکس شدہ غیر ملکی آمدن کا سراغ لگایا ہے۔

سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ آفشور کمشنریٹ آف لارج ٹیکس پیئرز آفس اسلام آباد کی جانب سے مختلف فری لانسنگ سروسز اور غیر ملکی گاہکوں کو اشیا کی فروخت سے پاکستانیوں کے اکاؤنٹس میں موصول ہونے والی رقم کی تحقیقات میں یہ کیسز سامنے آئے۔

سرکاری دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی گاہکوں نے پاکستانی افراد کو امریکی کمپنی ایم/ایس پائینیر انک کے ذریعے رقم ادا کی جو 22 ممالک میں سرحد پار ادائیگیوں سے منسلک ہے اور پاکستانی روپے سمیت 150 کرنسیوں کو سپورٹ کررہی ہے۔

یہ رقم بعد میں ان کے پاکستانی بینک اکاؤنٹس میں جمع ہوجاتی ہے، یہ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ٹیکس سال 2019، 2020 اور سال 2021 کے نصف حصے میں کی گئیں۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات کے لحاظ سے 75 ہزار 615 افراد کو ان کی غیر ملکی آمدن کے طور پر 60 ارب 30 کروڑ 80 لاکھ روپے کی بھاری رقم ادا کی گئی۔

تاہم ان ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز جن سے پردہ اٹھایا گیا ہے اس کا مجموعی تخمینہ تقریباً 10 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

اس سے نہ صرف ٹیکس بیس کا توسیع ملے گی بلکہ باقاعدہ غیر ملکی آمدن والے حقیقی ٹیکس دہندگان کی شمولیت کے نتیجے میں ملک میں جی ڈی پی کے لیے ٹیکس کی مجموعی شرح بھی بہتر ہوگی۔

ان میں سے 45 ہزار 12 افراد ٹیکس رول پر موجود نہیں ہیں یعنی ان کا کوئی قومی ٹیکس نمبر(این ٹی این) نہیں ہے جبکہ 30 ہزار 603 افراد ٹیکس رول پر رجسٹرڈ ہیں۔

تاہم اس کے باوجود رجسٹرڈ افراد میں سے صرف 17 ہزار 985 ریٹرن فائلر ہیں جبکہ 12 ہزار 618 نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں کوئی ریٹرن فائل نہیں کیا۔

پائنیر انک پاکستان میں حقیقی اعتبار سے موجود نہیں ہے، غیر ملکی کلائنٹس پاکستانی فرد کے امریکا میں موجود پائنیر اکاؤنٹ میں رقم دا کرتے ہیں جسے وہ شخص موبی لنک مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ (ایم ایم بی ایل) کے پائنیر اکاؤنٹ سے جاز والٹ یا کسی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے نکال لیتا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستانی کلائنٹس پائنیر کے ذریعے بھیجی گئی غیر ملکی ترسیلات زر نکالنے کے لیے ایم ایم بی ایل کے علاوہ 27 پاکستانی بینکس بھی استعمال کرتے ہیں۔

اس ضمن میں آفشور ٹیکسیشن کمنشنریٹ ذوالفقار احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیوں غیر ٹیکس شدہ غیر ملکی آمدن کی ٹیکسیشن نہ صرف نئے ٹیکس دہندگان اور ریونیو کی مد میں قومی خزانے میں رقم شامل ہوگی بلکہ پاکستان میں نان ریزیڈنٹ کمپنی کی ادائیگیوں پر بھی ٹیکس لگایا جاسکے گا۔

Previous articleمقبوضہ کشمیر میں ’پی آئی اے کے طیارے‘ کی لینڈنگ، بھارتی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں
Next articleقیمت سے لاعلم شخص ہاتھ آئی نایاب مچھلی پکا کر کھاگیا